The global site tag (gtag.js) is now the Google tag. With this change, new and existing gtag.js installations will get new capabilities to help you do more, improve data quality, and adopt new features – all without additional code. طلبہ کو فکری لنگڑا اور عقلی مفلوج نا بنائیں

طلبہ کو فکری لنگڑا اور عقلی مفلوج نا بنائیں

 ✍🏻 *حافظ محمد غفــــــران اشرفی*

*(جنرل سکریٹری سنّی جمعیة العوام)*

📱 *[7020961779 /Malegaon]*


اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی 

دوڑو!زمانہ چال قیامت کی چل گیا

دنیا کی دوسری قومیں تعلیم و تحقیق کی بنا پر ترقی کرگئیں۔اپنی تحقیق کے زور پر نئی نئی چیزوں کی ایجادات کا ایک طویل سلسلہ قائم کردیا۔دنیا میں اپنی ایک الگ شناخت پیدا کر ڈالی۔زمانہ کے اربوں کھربوں لوگوں کو اپنا فکری غلام بنالیا۔علم اور تحقیق کے جس میدان میں اُنہوں نے قدم رکھا اُس میدان کو بالآخر سٙر کر ہی لیا۔آخر ایسا کیوں ہوا کہ دنیا کے کھربوں انسان چند انسانوں کے فکری غلام بن گئے۔وجہ تلاش کیجئے تو سامنے آئے گی کہ اُن افراد کی فکر بہت وسیع اور اعلیٰ تھی۔وہ اپنے آپ کو نیچے کی سطح پر دیکھنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ہمیشہ ایک نئے خواب بُنتے رہے اور اُس نئے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی جستجو میں لگ گئے۔ایک چیز کو اپنی اعلیٰ تحقیق کی بنا پر معرضِ وجود میں لاکر دوسری چیز کی تحقیق شروع کردی۔دنیا ایسے ہی لوگوں کو سائنس دان کہتی ہے۔جنہوں نے اپنی ذات سے دنیا والوں کو زندگی کے ہر شعبے میں استعمال ہونے والی نئی نئی چیزیں دے کر اُن سے متعارف کروایا۔اُسی وسیع فکر اور بالغ نظری کو اُنہوں نے اپنی قوم کی آنے والی نسلوں کے اندر منتقل کیا۔جس سے اُس قوم کی بعد والی نسلوں نے فائدہ اٹھایا اور اب تک تحقیقات کرکے نفع اٹھا رہے ہیں۔ایک دور تھا جب تعلیم کے ہر محاذ اور ایجادات کے اکثر مارکیٹ پر مسلم طلبہ اور سائنسدانوں کا قبضہ تھا۔دور کی یہ بھی ستم ظریفی کہئے یا پھر تعلیم سے ہماری غفلت یا بچّوں کو تعلیمی و تحقیقی میدان میں صحیح نہج نا دینے کا خمیازہ کہئے کہ فی الحال مسلمان ایجادات کی دنیا میں چھوٹی چیز بنانے کا بھی حامل نظر نہیں آتا۔مسلم معاشرہ کا حال یہ ہے کہ اپنے گھر پیدا ہونے والے بچّے کو جب وہ کچھ شعور و آگہی کی منزل پر قدم رکھتا ہے اُسی وقت سے لاشعوری طور پر دوسروں کا فکری غلام بنانا شروع کردیتے ہیں۔ایسی لنگڑی فکر رکھنے والے معاشرہ کا بچّہ جب اسکول جاتا ہے تو اُس سے کہا جاتا ہے بیٹا تجھے ڈاکٹر بننا ہے،انجینئر یا وکیل بننا ہے۔اِن ڈگریوں اور عہدوں میں کوئی برائی نہیں۔آخر ڈاکٹر،انجینئر،وکیل اور ٹیچر والی اِس محدود سوچ کے ساتھ ہماری قوم کا بچّہ تحقیقی میدان میں کیسے اور کب ترقی کرسکے گا؟ہم کب تک اپنے بچّوں کی سوچ کو مفلوج بناکر رکھیں گے؟اپنے بچّوں کو موبائیل اور کمپیوٹر رپیئرنگ کب تک سکھاتے رہیں گے؟ہمارا بچّہ کب تک دوسروں کی بنائی ہوئی دواوں کو لکھ کر دینے والا مجبور و بےکس ڈاکٹر بن کر رہے گا؟ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ہماری درس گاہ کا طالب علم اپنی تحقیق کے زعم پر خود کسی چیز کو معرض وجود میں لائے؟یا وہ خود دوا ساز،موبائیل و کمپیوٹر ساز بن جائے۔آج کے اِس دور میں جان لیوا امراض کی جانچ اور اُس کی تشخیص کے لیے اعلیٰ مشنریز کا وجود ہمارے سرپرست اور معلّم حضرات کو اِس بات کی طرف مائل نہیں کرتا کہ ہمارے معاشرہ کا تعلیم حاصل کرنے والا طالب علم اُن مشنریز کا موجد ہو؟یا آنے والے دور جس میں جینے والا انسان اُس دور کی چکاچوند اور ٹیکنالوجی کو دیکھ کر شاید یہ کہنے پر مجبور ہوگا کہ میں کسی طلسماتی یا جادوئی دنیا کا کھلی آنکھ سے خواب تو نہیں دیکھ رہا ہوں۔اُس دور میں پیدا ہونے والی اشیا کی کھوج اور ایجادات میں آج تعلیم حاصل کرکے ہمارا بچّہ حصے دار نہیں بن سکتا بن سکتا ہے۔کیوں کہ آج بھی دنیا کی تمام قوموں سے زیادہ قابل مسلمان قوم ہے۔اِس لیے کہ اِن کے پاس خدائی کتاب اور رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا ذخیرہ ہے۔جن میں عالمِ وجود میں آنے والی از ابتدا تا انتہا ہر چیز کا واضحتا یا اشارة ذکر موجود ہے۔قدرت نے انسان کو وہ صلاحیت دی ہے کہ اپنے علم کی روشنی میں چیزوں کو وجود بخشے۔لیکن مسلم معاشرہ میں گزشتہ کئی صدیوں سے ایسا اِس لیے نہیں ہورہا ہے کہ بچپن سے ہی ہمارے طلبہ کو ایک لنگڑی سوچ کا عادی بنادیا گیا ہوتا ہے۔ہماری تعلیم کی گئی لنگڑی،مفلوج اور ذہنی غلامی اختیار کرنے والی چھوٹی سوچ اُسے اُس مقام تک پہنچنے نہیں دیتی جہاں ہمیں آج دنیا کھڑی نظر آتی ہے۔آپ غور کیجئے کہ دنیا میں جو قومیں آج ترقی کررہی ہیں وہ بھی تو اِسی زمین کی مخلوق ہیں!آخر اُنہوں نے ایجادات کی دنیا میں اپنی فتح کے جھنڈے کیسے اور کیوں کر گاڑے؟یہ سوال ہے اور اِس کا جواب اِس قوم کے معماران،تعلیم یافتہ طبقہ،سرپرست اور خطبا کو ہی تلاش کرنا ہے۔کل تک مسلمان مقتدا کی حیثیت سے دنیا میں متعارف تھا اور آج لوگوں کا فکری غلام بن کر علمی دولت کا مفلس و قلاش ہوکر رہ گیا ہے۔وجہ صاف ہے ہم اپنے بچّوں کو ڈاکٹر،انجینئر،ٹیچر اور وکیل سے آگے دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔اِس لیے کہ معاشرہ کے ہر فرد کی آنکھ پر دولت کی پٹی بندھی ہوئی ہے قوم مسلم کے زوال کی کسے فکر؟۔ابھی چند سالوں سے طلبہ کی فکر میں کچھ معمولی سی تبدیلی آئی ہے IAS اور دوسرے کورسیز کی طرف ہماری قوم کے طلبہ نے قدم بڑھایا ہے۔لیکن اِس وقت ضرورت اِس بات کی ہے کہ اپنے بچّوں کو ذہنی مفلوج اور عقلی طور پر لنگڑا بنانے کی بجائے اُن کی فکر کو بچپن ہی سے وسعت دیں۔تاکہ مستقبل میں اِس وسیع فکر کے ساتھ ہمارا بچّہ دنیا سے آگے جانے کی اپنے اندر صلاحیت پیدا کرسکے۔اُنہیں کامیاب مسلم سائنسدانوں کی زندگیاں بتائیں۔ہمیں اپنی قوم کے بچّوں کو آج کے مسائل کے ساتھ ساتھ آنے والے دور کی تحقیقی گتّھیوں کو سلجھانے کے لیے ابھی سے تیار کرنا ہوگا۔دور بدل رہا ہے حالات بہت تیزی سے کروٹ لے رہے ہیں اِس لیے ہمیں بھی اپنی فکر کے ساتھ بچّوں کی فکر کو وسعت دینے کی از حد ضرورت ہے۔

اللہ پاک قوم مسلم کو عروج و ارتقا نصیب فرمائے۔آمین

Post a Comment

0 Comments