اگر آپ کے گھر کا کوئی فرد کسی اسکول انتظامیہ میں شامل ہے یا آپ کسی اسکول انتظامیہ کے رکن کو لڑکی دے رہے یا لے رہے ہیں تو اپنے بچوں کو ڈی ایڈ بی ایڈ کروائیں بصورت دیگر دوسری فیلڈ کا انتخاب کریں
کیونکہ سرے سے نوکری لگتی ہی نہیں کلئر سیٹ پر _اسکول انتظامیہ کے باہر سے کوئی لیتے بھی ہیں تو اپنے قریبی تعلق اور پندرہ سے بیس لاکھ ڈونیشن
گرانٹ کے بھی کم مسائل نہیں ہیں نئ سیٹوں پر بارہ پندرہ سال سے ہمارے شہر میں ہی ایک دم فری میں سینکڑوں ٹیچرس کام کررہے ہیں جنھیں اتنے برسوں میں ایک پانچ پیسہ پے منٹ نہیں ملی _ اسکول انتظامیہ تین چار ہزار ماہانہ جیب خرچ دیتے ہی اور گرانٹیڈ ٹیچرس کے برابر یا ان سے بھی زیادہ کام لیتے ہیں
شہر کی ایک اسکول میں نان گرانٹ ٹیچرس کو اتنا پریشان کیا جاتا ہے کہ نا انہیں مئ کی چھٹی دی گئی اور نا ہی انہیں سنڈے کو چھٹی دی جاتی ہے ہر سنڈے کسی نا کسی بہانے سے بلایا جاتا ہے کوئی دبے لفظوں میں کچھ کہے تو سروس چھوڑ نے کیلئے کہتے ہیں کہ تم چوبیس گھنٹے کے ملازم ہو گھڑی دیکھ کر نہیں آجا سکتے اور نہیں کرنا تو چھوڑ دو جاب بہت ٹیچرس مل جائیں گے ہمیں
کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے بچی کو جاب نہ ملے اور وہ بے روزگار رہے؟
یا روزگار مل جانے پر وہ ان ظالم اسکول مینجمنٹ ہیڈماسٹر ہیڈمسٹریس کے ظلم وستم کا شکار بینں؟
ایک لاکھ روپے تک ماہانہ تنخواہ لینے والے ٹیچرس سے زیادہ دو پانچ ہزار روپے ماہانہ پر گدھے کے جیسا کام کریں؟
اسکول انتظامیہ خدا کا خوف کرو اپنے ہیڈماسٹر ہیڈمسٹریس کو کنٹرول میں رکھو جو ایک لاکھ روپے پیمنٹ والے اور دو پانچ ہزار والے ٹیچرس کو ایک لکڑی سے ہکال کر کام لیتے ہیں
یہ سارے ظلم اس لیے کرتے ہیں کہ ایک سیٹ کیلئے اشتہار پر دس بیس پہنچ جاتے ہیں - جب انہیں کوئی نہیں ملے گا تو یہ دو پانچ ہزار میں بندھوا مزدور خرید کر ظلم کرنا بند کردیں گے

0 Comments