تحریر: ایڈوکیٹ مومن مصدق مجیب
ممبئی ہائی کورٹ
ممبئی میں رہائش پذیر ایک لڑکی کو ۳ دسمبر ۲۰۱۸ کو دبئی ائیر پورٹ پر گرفتار کرکے مقدمہ درج کیا گیا۔ اس معاملے میں قانونی معاونت انجام دینے کا موقع ملا۔ مذکورہ کیس میں دبئی کی نچلی عدالت نے ۱۲ مارچ ۲۰۱۹ اپنا فیصلہ دیا۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل کیس میں عدالت عالیہ نے ۵ مئی ۲۰۱۹ کو فیصلہ سنا دیا۔ اس طرح ابتدائی مرحلہ سے آخری مرحلے تک قانونی نظام دیڑھ سال کے قلیل عرصے میں مکمل ہوگیا۔ اس کے بالکل برعکس ہندوستان میں نظام قانون اور عدالتی نظام کی صورتحال نا صرف یہ کہ دگر گوں ہے بلکہ مزید ابتری کی طرف گامزن ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف تعلقہ اور ضلعی سطح کی بات کی جائے تو اس وقت عدالتوں میں ۴ کروڑ ۱۸ لاکھ مقدمات زیر غور ہیں۔ پانچ سال سے زائد پرانے مقدمات کی تعداد ایک کروڑ ساٹھ لاکھ یعنی کل تعداد کا تقریبا پچیس فیصد ہے۔ حیرت انگیز طور پر نصف سے زائد یعنی دو کروڑ سے زیادہ مقدمات صرف چار ریاستوں یعنی مہاراشٹر، اتر پردیش، بہار اور بنگال میں ہے۔ صرف یوپی میں تعلقہ اور ضلعی عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی تعداد ایک کروڑ ۳ لاکھ ہے اور ان میں سے تقریبا ۱۴ فیصد دس سال سے زیادہ عرصے سے زیر سماعت ہیں۔
کچھ ریاستوں کی عوام مقدمہ بازی میں بہت آگے ہے جبکہ کچھ ریاستوں کی عوام مقدمہ بازی سے احتراز کرتی ہے۔ عدالتی عملہ خصوصا ججوں کی عدم دستیابی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ججوں کی دستیابی کے معاملے میں یو پی سب سے پیچھے ہے جہاں ایک لاکھ ۱۳ ہزار افراد پر صرف ایک جج کا اوسط ہے۔ اس کے بعد تلنگانہ میں ایک لاکھ۸ ہزار افراد پر ایک جج کا تناسب ہے جبکہ ریاست مہاراشٹر میں ۵۴،۴۵۳ افراد پر ایک جج دستیاب ہے۔ حالیہ پارلیمنٹ سیشن میں مرکزی وزارت قانون نے لوک سبھا میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ فی الوقت ملک میں صرف ہائی کورٹ میں ججوں کی ۳۷۹ اسامیاں خالی ہیں۔ مزید کسی بھی علاقے میں نئی یا اضافی عدالت قائم کرنے کا بھی فی الحال حکومت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
جیلوں کی استطاعت میں کمی اور ان میں دستیاب بنیادی سہولیات کا فقدان بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ استعداد اور موجود قیدیوں کی تعداد پر غور کیا جائے تو جیلوں میں کافی زائد تعداد میں افراد قید ہیں جو اضافی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی حالیہ رپورٹ کے مطابق مہاراشٹر میں قید و بند کی صعوبتوں میں مبتلا افراد کی تعداد جیلوں کی استعداد کے مقابلے۱۲۸ فیصد، گجرات میں۱۱۰ فیصد، مدھیہ پردیش میں۱۵۹ فیصد، کرناٹک میں۱۲۹ فیصد، دہلی میں۱۶۰ فیصد جبکہ یوپی میں سب سے ذیادہ ۱۷۷ فیصد ہے۔ المیہ یہ ہے کہ پورے ملک کی جیلوں میں قید افراد کا۶۲ فیصد حصہ ایسے قیدیوں کا ہے جنہیں سزا نہیں سنائی گئی بلکہ ان کے مقدمات زیر سماعت ہیں اور انہیں ضمانت پر رہا نہیں کیا گیاہے۔ دنیا کے دیگر ممالک میں زیر سماعت مقدمات میں قید افراد کا تناسب محض۱۸ سے۲۰ فیصد ہے۔ اس بنیاد پر ہندوستان میں انصاف کے نظام کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
عوام میں مقدمہ بازی کا رجحان اور عدالتی عملے کی کمی و بیشی نا صرف یہ کہ انصاف کے حصول میں تاخیر کا باعث بنتی ہے بلکہ قیدیوں کی مشقت میں بھی اضافہ کا سبب بنتی ہے۔ ایک ہی قسم کے مقدمے میں مختلف ریاستوں میں قیدی مختلف عرصے تک جیلوں میں بند رہتے ہیں اور فیصلے کے لیے درکار عرصہ بھی مختلف ہوتا ہے جبکہ قانون تمام لوگوں کے لیے یکساں ہے۔ مثال کے طور پر مہاراشٹر، دہلی اور ہریانہ میں اگرچہ کہ زیر سماعت مقدمات کی تعداد ایک لاکھ کی آبادی پر زائد از ۴۵۰۰ ہے لیکن پھر بھی ان ریاستوں میں پانچ سال سے زائد عرصے تک معلق رہنے والے مقدمات کی تعداد ۲۵ فیصد سے بھی کم ہے جبکہ دوسری طرف بنگال اور بہار جیسی ریاستوں میں اگرچہ کے ایک لاکھ آبادی پر مقدمات کی تعداد قومی اوسط سے کم ہے مگر ان ریاستوں میں ۴۰ فیصد سے زیادہ مقدمات پانچ سال سے زائد عرصہ تک زیر سماعت رہتے ہیں۔
جیلوں میں قید تمام قیدیوں اور انڈر ٹرائل قیدی یعنی جن کے مقدمات ابھی عدالتوں میں جاری ہیں ان کی تعداد کا موازنہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انڈر ٹرائل قیدیوں کی تعداد میں ہر گزرتے سال کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ۲۰۱۰ میں یہ تناسب۶۵ فیصد تھا جو ۲۰۲۰ میں بڑھ کر۷۶ فیصد ہو گیا ہے۔ جتنے مقدمات کا ایک عرصے میں تصفیہ ہوتا ہے ان سے کہیں زیادہ مقدمات اسی عرصے میں داخل ہو جاتے ہیں جس سے صورتحال مزید خرابی کی طرف گامزن ہے۔ حکومت کی جانب سے عدالتی عملے کی بروقت تعیناتی کی راہ میں حائل دشواریوں کے پیش نظر یہ عوام کے لئے بدرجہا بہتر ہے کہ وہ عدالتی مقدمات کا رخ کرنے کی بجائے مصالحت کو ترجیح دے۔
سپریم کورٹ نے حال ہی میں ۱۱ جولائی ۲۰۲۲ کو ستیندر کمار بنام سی بی آئی کیس کی سماعت کے دوران گرفتاری کے یکساں اصول اور درخواست ضمانت کی سماعت کے لیے مخصوص وقت طے کرنے کی ضرورت پر بہت ساری ہدایات جاری کی ہیں تاکہ جیلوں میں بے جا افراد کو نہ رکھا جائے۔ جسٹس سدھارتھ کول اور جسٹس سندریش نے مرکزی حکومت سے درخواست کی کہ وہ انگلینڈ میں مروجہ ضمانت کے قانون کی طرح ہندوستان میں بھی ایک علیحدہ ضمانت کا قانون بنائیں تاکہ گرفتاری کے اصولوں کی پاسداری کی جائے اور ضمانت کا حصول ایک مخصوص عرصے میں آسان بنایا جائے۔ حال ہی میں مشہور صحافی محمد زبیر کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے بنیادی قانون یعنی ضمانت حق ہے اور قید استثناء پر ایک بار پھر زور دیا۔ تاکہ پولیس کی زیادتیوں اور غیر ضروری گرفتاریوں پر روک لگ سکے۔ انگلینڈ کے ضمانت کا قانون Bail Act 1976 کے تحت ضمانت کو عمومی حق تسلیم کیا جاتا ہے۔ تاکہ غیر ضروری طور پر عوام کو جیلوں میں نہ رکھا جائے۔ اس قانون کے مطابق اگر ملزم کو ضمانت ملنے چاہیے تا وقتیکہ اس کے خلاف ضمانت نامنظور کرنے کا کوئی واضح جواز ہو۔ شخصی آزادی کو انگلینڈ میں بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ ان فیصلوں اوربیانات کے باوجود عمر خالد، صدیق کپن اور شرجیل عثمانی جیسے لوگوں کی درخواست ضمانت کافی عرصے سے زیر سماعت ہے ۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے ۳۰ جولائی ۲۰۲۲ کو آل انڈیا ڈسٹرکٹ لیگل سروس اتھارٹی کی میٹنگ میں انڈر ٹرائل قیدیوں کی رہائی میں تیزی لانے پر زور دیا اور کہا کہ ہر عام ہندوستانی کا عدلیہ پر بھروسہ ہے کہ وہ عدالت کے دروازے پر کسی بھی وقت دستک دے سکتا ہے۔ وزیر اعظم نے ڈسٹرکٹ لیگل سروس اتھارٹی کو تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے انڈر ٹرائل قیدی جو وکیل کا انتظام نہیں کرسکتے ان قیدیوں کے لئے مناسب انتظام کیا جائے اور ان کی فوری رہائی کی راہ ہموار کی جائے۔
ان تمام حالات کا جائز ہ لینے پر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ نظام انصاف کو بہتر بنانے لے لئے ملک میں انڈر ٹرائل قیدیوں کی تعداد پر قابو پانا نہایت ضروری ہے۔ اس لئے علیحدہ قانون ضمانت کا بنانا اشد ضروری ہے جو ضمانت کو حق قرار دے اور درخواست ضمانت کی سماعت کے لئے ایک مخصوص وقفے کا تعین کرے۔ مزید عدالتی عملہ کی تعیناتی میں زبردست تیزی لانے کی ضرورت ہے۔ موجودہ نظام کو سمجھتے ہوئے عوام کو سمجھنا چاہیئے کہ اس وقت عدالتوں کا رخ کرنا وقت اور پیسے کی بربادی کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس لئے حتی الامکان مصالحتی نظام کو ترجیح دینا چاہیئے۔

0 Comments