The global site tag (gtag.js) is now the Google tag. With this change, new and existing gtag.js installations will get new capabilities to help you do more, improve data quality, and adopt new features – all without additional code. موضوع بحث جنم داخلہ معاملہ اور ہماری ذمہ داریاں

موضوع بحث جنم داخلہ معاملہ اور ہماری ذمہ داریاں

 موضوع بحث جنم داخلہ معاملہ

اور ہماری ذمہ داریاں

________________________




 بنگلہ دیشی اور روہنگیا افراد نے گھس پیٹھ کرکے ہزاروں کی تعداد میں  جنم داخلے بنوائے ہیں میڈیا میں اس کا شوشہ چھوڑ کر حکومت کوالرٹ کیا گیا۔نتیجے میں ایس آئی ٹی بیٹھادی گئ ۔اور نتیجہ سب کے سامنے ہے۔
حالانکہ یہ بے بنیاد الزام ہے۔ابھی تک ایک بھی روہنگیا یا بنگلہ دیشی فرد نہیں مل سکا۔ اس سلسلے میں مائناریٹی ڈیفنس کمیٹی اپنی خدمات انجام دے رہی ہے قابل ستائش ہے۔
دراصل ہماری کارپوریشن جو پہلے میونسپلٹی تھی۔وہاں پر بیشتر افراد کے ریکارڈ موجود نہیں۔یا تو سیلاب میں بہہ گئے یا رجسٹر کے اوراق بوسیدہ ہوکر پھٹ کر ضائع ہوگئے یا پھر شہریان کو درست تاریخ پیدائش معلوم نہ ہونے کی وجہ سے رجسٹر میں نہیں مل سکے۔چند ہی ایسے ہوں گے جن کے سرے سے نام نہیں ہیں۔اب  بدلتے قوانین کے پیش نظر احتیاطا بیشتر افراد نے اپنے جنم داخلے کیلیے کارپوریشن سے رابطہ کیا تو وہاں سے ریکارڈ دستیاب نہیں کا جواب ملا۔جس کی بنیاد پر تحصیل آفس سے جنم داخلہ بنوانے کیلیے عریضہ کیا۔کہ تحصیلدار کو اختیار دیا گیا کہ وہ عریضے دار کو چھان بین کرکے داخلہ بنانے کی سفارش کردے۔اور کارپوریشن جنم داخلہ بناکر دے دے۔اب یہ بہتر طور پر بنانے والے جانتے ہیں کہ انہوں نے داخلے کے پروف کیلیے کون سے کاغذات دیے اور کن کے ذریعے بنواۓ۔جن کے کاغذات کلیر ہیں انہیں مسئلہ نہیں۔جن کے دستاویز میں کچھ کیوری ہے اور ان کا داخلہ بنادیا گیا تو وہ مجرم ٹھہرے۔
مقامی سطح پر آصف شیخ رشید صاحب ' شان ہند بائی 'و مستقیم ڈگنٹی واحباب مائناریٹی ڈیفنس کمیٹی  کے بینر تلے اس سلسلے میں اپنی مخلصانہ جدوجہد جاری رکھے ہیں۔ممبئ میں وزرا سے ملاقات اور ماہرین قانون کے ساتھ ہائی کورٹ بھی جانے والے ہیں۔اللہ انہیں کامیابی عطا فرماۓ۔
وہیں ایم ایل اے صاحب و ایم پی صاحبہ بھی حکومت سے دو ٹوک بات کریں کہ ہراسانی کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جاۓ۔

اب ہمیں کیا کرنا ہے ؟

پورے ملک کے موجودہ حالات بڑے کٹھن ہیں۔ہماری قوم کیلیے ضروری ہوگیا ہے کہ بہت احتیاط سے کام لیں۔درکار ضروری دستاویز ایجنٹوں کی بجاۓ خود بنانے کی کوشش کریں۔ یا ہمارے وکلا سے بنوائیں کہ  سرٹیفکٹ اوریجنل رہے۔کسی بھی طرح ڈپلیکیٹ فرضی نہ ثابت ہوں۔

بچوں کی پیدائش کے اندرون پندرہ دن لازمی طور پر کارپوریشن پربھاگ آفس میں ان کا اندراج کریں۔ نام کی اسپیلنگ اچھی طرح چیک کرلیں۔خود فارم پر کرکے جمع کریں اگر نہیں پر کرسکتے تو گھر سے ہی کسی تعلیم یافتہ سے ایک کاغذ پر مراٹھی انگلش میں بچے والد اور والدہ کے نام لکھواکر لے جائیں اور عریضے میں بالکل اسی طرح لکھنے کیلیے کہیں۔

نام مختصر اور آسان رکھیں۔اسکولوں میں طویل نام والے بچوں کو حکومتی سائٹس سرل یا یوڈائز وغیرہ میں انٹری میں تکلیف ہوتی ہے۔ہمارے یہاں بچی یا بچے کے دو نام رکھنے کا رواج ہے۔مثال کے طورپر افتخار احمد یا عائشہ صدیقہ اتنا کافی ہے۔اب ان ناموں سے پہلے یا بعد سرنیم لگانے سے تین نام ہوجاتے ہیں ۔مزید کسی کے والد صاحب کے نام میں ڈاکٹر یا حاجی کا اضافہ ہوجاۓ  تو نام اتنا بڑا ہوجاتا ہے کہ اکثر فارم میں لکھنے کی جگہ ختم ہوجاتی ہے۔اور کمپیوٹر بھی ایکسپٹ نہیں کرتا۔اسلیے نام اگر صرف ایک رکھیں تو اور بھی اچھا جیسے صرف عبداللہ 'سعد 'احمد ''اسما' حفصہ 'زینب  وغیرہ  وغیرہ ۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ بچے کی پوری تعلیمی لائف اور بعد میں بھی کہیں کوئی نام کی غلطی نہیں ہوگی جس کی وجہ سے اکثر آدھار اپڈیٹ کرانے کی نوبت آتی ہے۔علاوہ کالجس سرکاری اداروں میں  غیر اردو داں حضرات بھی بچے بچی اور والد کے نام میں بہ آسانی فرق کرلیتے ہیں۔انہیں بتانا نہیں پڑتا کہ بچے کا نام کہاں ختم ہوا اور والد کا کہاں شروع ہوا۔

اپنا اپنے والدین کا اور بچوں کی تعلیم مکمل ہونے پر بچوں کا اسکول ایل سی نکال لیں اسے لیمینیشن کرکے محفوظ کرلیں۔چند سال پہلے بڑی تعداد میں اسکولوں سے ایل سی نکالے گۓ اسکول والوں نے بھی زبردست تعاؤن کیا۔اور برسوں پرانے حفاظت سے رکھے گۓ رجسٹروں  سے ڈھونڈ کر ایل سی عریضہ داروں کے حوالے کیا۔

اسی طرح انتقال کرجانے والے قریبی رشتہ داروں کے میت داخلے بھی درست تاریخ معلوم ہوتو بہ آسانی کارپوریشن سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

ذات کے سرٹیفکٹ اوبی سی' وی جے  وغیرہ گھر کے کاغذات خریدی خط کی کاپی۔سات بارہ کا اتارہ نیشنالٹی ڈومیسائل وغیرہ سرٹیفکٹ ہمارے رہائشی ثبوت ہیں انہیں محفوظ رکھیں۔اگر آپ کے والد دادا پردادا کے ذریعے خریدا گیا آبائی مکان فروخت بھی ہوچکا ہو تو اس کا پرانا اتارا معمولی فیس اداکرکے مل جاۓگا۔جو ایک مضبوط ثبوت ہے ۔

آپ کے پاس جو دستاویز ہیں کافی ہیں۔ جو نہیں ہیں اور اگر وہ قانونی طور پر بن سکتے ہیں تو بنوالیں۔رشوت دے کر دونمبر میں ایک بھی دستاویز نا بنوائیں۔زمانہ ترقی پر ہے ۔جعلی دستاویز ثابت ہوجاتے ہیں۔اسلیے اس کے پیچھے خود کو ہلکان نہ کریں۔جو ہے جتنا ہے کافی ہے۔ اس کی تین چار کاپیاں زیراکس کرکے فائل بنالیں۔اور جتنے بھائی بہنیں ہیں سب کے پاس ایک ایک فائل رکھوالیں۔ مستقبل میں حیرانی نہیں ہوگی۔ان شاءاللہ۔۔

Post a Comment

0 Comments