آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد اور مبینہ بدعنوانیوں کے خلاف ایڈوکیٹ مومن مصدق احمد کی ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر
دو سالہ معصوم کی کتوں کے حملے میں موت پر معاوضے کا مطالبہ، مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن سے جواب طلب
شہر میں آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد، مسلسل پیش آنے والے کتے کے کاٹنے کے واقعات اور کتوں کی نس بندی و ویکسینیشن پروگرام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف ایڈوکیٹ مومن مصدق احمد کی جانب سے بمبئی ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن داخل کی گئی ہے۔ رٹ پٹیشن میں خاص طور پر دو سالہ معصوم شہباز کلیم قریشی کی آوارہ کتوں کے حملے میں ہوئی موت پر متاثرہ خاندان کو مناسب معاوضہ دینے اور ذمہ دار حکام کے احتساب کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
رٹ پٹیشن کے مطابق ۲۸ نومبر ۲۰۲۵ کو دو سالہ شہباز کلیم قریشی پر آوارہ کتوں نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں اسے شدید چوٹیں آئیں اور بعد ازاں اس کی موت واقع ہوگئی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ شہر میں آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد اور کتے کے کاٹنے کے واقعات کے بارے میں متعلقہ حکام کو کئی برسوں سے مسلسل آگاہ کیا جاتا رہا، اس کے باوجود مؤثر اقدامات نہیں کئے گئے۔
ایڈوکیٹ مومن مصدق احمد نے رٹ پٹیشن میں سرکاری ریکارڈ، آر ٹی آئی سے حاصل شدہ معلومات اور مختلف سرکاری مراسلات کی بنیاد پر مالیگاؤں میں اینیمل برتھ کنٹرول پروگرام کے نفاذ، کتوں کی نس بندی و ویکسینیشن اور اس سلسلے میں سرکاری فنڈز کے استعمال میں مبینہ سنگین بے ضابطگیوں کی جانب بھی عدالت کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ پٹیشن میں ان معاملات کی آزادانہ اور عدالت کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پٹیشن میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ جنرل ہسپتال، مالیگاؤں کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق کتے کے کاٹنے کے واقعات کئی برسوں سے تشویشناک سطح پر موجود ہیں، جبکہ اپریل 2024 سے مارچ 2025 کے دوران 3621 اور اپریل 2025 سے مارچ 2026 کے دوران 6439 کتے کے کاٹنے کے معاملات رپورٹ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
پٹیشن میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ کتوں کی نس بندی اور ویکسینیشن کے لئے مقررہ رقم خرچ کئے جانے کے باوجود زمینی سطح پر کتے کے کاٹنے کے واقعات میں خاطر خواہ کمی نہیں آئی، جبکہ بعض سرکاری ریکارڈ میں مبینہ تضادات اور بے ضابطگیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
بمبئی ہائی کورٹ نے 14 اگست 2026 کو رٹ پٹیشن نمبر 9610/2026 کی سماعت کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کیا اور معاملہ 11 ستمبر 2026 کو قابلِ سماعت قرار دیا۔ عدالت نے خاص طور پر مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کو حکم دیا کہ وہ مقررہ تاریخ سے کم از کم ایک ہفتہ قبل اپنا حلف نامہ داخل کرے۔
رٹ پٹیشن میں ایڈوکیٹ مومن مصدق احمد نے مطالبہ کیا ہے کہ شہباز کلیم قریشی کی موت کے عوض متاثرہ خاندان کو مناسب آئینی معاوضہ دیا جائے، آوارہ کتوں کے مسئلے پر مؤثر اقدامات کے لئے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کی جائیں اور اینیمل برتھ کنٹرول پروگرام میں مبینہ مالی و انتظامی بے ضابطگیوں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔
اس معاملے کی آئندہ سماعت 11 ستمبر 2026 کو ہوگی، جس پر مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن سمیت متعلقہ حکام کا موقف عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

0 Comments